Skip to main content

دعوت و حملے، 20 اہلکار سرنڈر، دو ٹینک تباہ، 8 ہلاک و زخمی Date: 2020-05-09 دعوت و حملے، 20 اہلکار سرنڈر، دو ٹینک تباہ، 8 ہلاک و زخمی کمیشن برائے دعوت و ارشاد کے کارکنوں کی دعوت کے سلسلے میں بغلان، میدان اور پکتیکا صوبوں میں کابل انتظامیہ کے 20 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے، جب کہ کابل اور غزنی صوبوں میں کٹھ پتلی فوجوں پر حملے اور دھماکے ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ بغلان ضلع مرکزی بغلان کے مختلف علاقوں کے رہائشی کابل انتظامیہ کے 18 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے، جن میں ذبیح اللہ ولد محمداللہ، جان آغا ولد اخترمحمد، لاجور ولد محمداکبر، خدائے داد ولد عبدالحمید، رحمت اللہ ولد مرزاخان، محمد میر ولد زرغون، شیرمحمد ولد فتح محمد، ارسلاجان ولد عبدالرحمن، ناصر ولد ارسلاجان، رحیم اللہ ولد محمدعلی، عبدالغیاث ولد محمد حنیف، گل دین ولد محمد موسی، زبیداللہ ود گلاب خان، محمدقاسم ولد محمدسلیم، آغامحمد ولد حاجی روزی، گل میر ولد غلام سخی، عبدالوہاب ولد اللہ نظر اور نعمت اللہ ولد عبدالرحیم شامل ہیں۔ دوسری جانب صوبہ پکتیکا ضلع جانی خیل کے احمدقلعہ کے رہائشی نام نہاد قومی لشکر کے جنگجو عبدالصمد ولد عبدالوہاب اور صوبہ میدان ضلع نرخ کے باشندے پولیس اہلکار زیارت گل غلام عظیم نے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ کابل ضلع موسہی کے پاس قشلاق کے علاقے میں جمعہ کے روز دوپہرکے وقت بم دھماکہ سے فوجی ٹینک تباہ اور اس میں سوار 4 اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے، جب کہ صوبہ غزنی ضلع شلکر کے نظرخان کے علاقے جمعہ کےروز شام کے وقت میں اسی نوعیت دھماکے سے ٹینک تباہ اور اس میں سوار 4 اہلکار ہلاک ہوئے۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)